پاکستان اور چین سے دوطرفہ جنگ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا:جنرل راوت

۷،ستمبر ؍آرمی چیف جنرل بپن راوت نے ہند پاک اختلافات کو ’نا قابلِ مفاہمت ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین سے دوطرفہ جنگ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے اس افسانے کو بھی رد کردیا کہ جمہوریت پسند یا جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک ایک دوسرے سے جنگ نہیں کرتے۔ نئی دہلی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انڈین آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا کہ فوج کو دو محاذوں پر جنگ کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔انگریزی رسالہ ’انڈیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق جنرل بِپن روات کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین سے دوطرفہ جنگ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔جنرل روات نے چین کے ساتھ مستقبل میں ٹکراؤ کے اندیشہ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور پاکستان بھی اس موقع پر فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس لئے ہندستان کو ایک ساتھ دو محاذوں پر اپنا دم خم دکھانے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔انہوں نے اس افسانے کو بھی رد کردیا کہ ’جمہوریت پسند یا جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک ایک دوسرے سے جنگ نہیں کرتے‘۔ انہوں نے کہا’ ہندستان مغربی اور شمالی سرحد پر دو مخالفین سے گھرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قابل یقین مزاحمتی صلاحیت جنگ کے خطرے کو ختم نہیں کرتی۔ یہ بات درست ہے کہ جوہری اسلحہ مزاحم کا کام کرتے ہیں اور نیوکلیائی ہتھیاروں کی صلاحیت رکھنے والے ممالک کے مابین جنگ نہیں ہوتی۔ لیکن یہ کہنا کہ یہ جنگ ٹال سکتے ہیں، یہ ممالک کو لڑنے نہیں دیں گے، یہاں کیلئے یہ کہنا درست نہیں بھی ہوسکتا ہے۔‘ جنرل بپن روات نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوسکتے کیونکہ پاکستان نے بھارت کے خلاف درپردہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ انہوں نے کہا’(پاکستان)اُس کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش نہیں دکھائی دیتی کیوں کہ وہاں کی فوج، حکومتی نظام اور لوگوں کے من میں یہ بھر دیا گیا ہے کہ ہندستان اس کا دشمن ہے اور وہ اس ملک کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے، جنگ کی گنجائش ہمیشہ بنی رہتی ہے۔‘انہوں نے مستقبل میں بھارتی و چینی فوجی دستوں کے آمنے سامنے کی صورت میں ملک کی فوجی حکمت عملی سے متعلق بھی مختصر بات کی۔ آرمی چیف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال کی تکرار جیسے کہ ڈوکلام میں بھارتی اور چینی افواج کے درمیان پیش آنے والا حالیہ تنازع جیسی صورتحال مستقبل میں بھی پیش آسکتی ہے۔جنرل بپن روات نے الزام لگایا کہ چین خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور بھارت سے ڈوکلام کا علاقہ زبردستی حاصل کرنا چاہتا ہے، اس لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ’اگر بھارتی افواج شمالی سرحد پر چین کے سامنے کھڑی رہی تو اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ پاکستان صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا، اس لیے ہمیں شمالی اور مغربی بارڈرز پر کشیدگی کیلئے تیار رہنما چاہیے۔‘انہوں نے کہا کہ ’فوجیں تنہا جنگ نہیں لڑتیں بلکہ پوری قوم جنگ لڑتی ہے اور ہمیں اس کے مطابق خود کو تیار کرنا چاہیے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *