روہنگیامسلمانوں کیساتھ اظہاریکجہتی

ملازمین اورطلاب نے کیاکشت وخون کیخلاف صدائے احتجاج بلند

سرینگر؍۷،ستمبر ؍روہنگیامسلمانوں کے قتل عام کیخلاف اہل وادی میں سخت ناراضگی کے بیچ جمعرات کوسرکاری ملازمین اورطلاب نے سرینگر،شوپیان اوردیگرکچھ مقامات پر صدائے احتجاج بلندکیا۔ایجیک کشمیرکے جھنڈے تلے سرکاری ملازمین نے سیاہ جھنڈیاں اوربینراُٹھائے پریس کالونی سے گھنٹہ گھرتک پُرامن مارچ کیا۔اس موقعہ پرایجیک کشمیرکے صدراعجازخان نے کہاکہ بے بس روہنگیامسلمانوں کوتہیہ تیغ کرناعالم انسانیت کیلئے چیلنج ہے ۔انہوں نے بودھ انتہاپسندآشین وردؤکوعالمی دہشت گردقراردینے کامطالبہ کرتے ہوئے بنگلورمیں خاتون صحافی گوری لنکیش کے سفاکانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔اُدھرشوپیان میں ہائراسکنڈری اسکول کے طلاب نے روہنگیامسلمانوں کیساتھ اظہاریکجہتی کے بطورمارچ کیا تاہم واپسی پرطلاب کاپولیس اورفورسزسے سامناہوا،جسکے نتیجے میں طرفین کے مابین ٹکراؤ کی صورتحال پیداہوئی ۔میانماریعنی برماکے مسلم اکثریتی علاقہ رخائن میں آبادروہنگیامسلمانوں کے قتل عام اوراُنکی بستیوں کونذرآتش کئے جانے کیخلاف اُمت مسلمہ بشمول اہل وادی میں پائی جانے والی سخت ناراضگی کے بیچ کشمیرمیں برمی فوج اوربودھ انتہاپسندوں کیخلاف احتجاجی مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے ،جمعرات کوسرینگراورشوپیاں سمیت کئی مقامات پرجلوس برآمدہوئے ۔سرکاری ملازموں کی مختلف انجمنوں کے ایک مشترکہ فورم ایمپلائزجوائنٹ ایکشن کمیٹی کشمیر کے جھنڈے تلے درجنوں ملازمین بازؤں پرسیاہ پٹیاں باندھے اورہاتھوں میں سیاہ بینروجھنڈیاں لئے سرینگرکی پریس کالونی میں جمع ہوئے ۔یہاں سے ایجیک کشمیرکے صدراعجازاحمدخان اوردیگرملازم لیڈران بشمول اشتیاق احمدبیگ،میربشیراحمد،غلام محمدنائیکو،محمداشرف،شیخ ماجد،عبدالقیوم بیگ اورتسلیمہ سبحان کی قیادت میں ملازمین نے روہنگیامسلمانوں کی بستیوں کوتہیہ تیغ کئے جانے ،بلالحاظ عمروجنس ان کے قتل عام اوراُنھیں وطن سے بے وطن کئے جانے کیخلاف پُرامن مارچ کیا۔برمامیں دہشت گردی بندکرؤ،روہنگیامسلمانوں کوتحفظ دؤجیسے نعرے بلندکرتے ہوئے سرکاری ملازمین نے گھنٹہ گھرتک مارچ کیا۔یہاں جمع ملازمین اوردیگرلوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ایجیک کشمیرکے صدراعجازاحمدخان نے کہاکہ برمی فوج اوربودھ دہشت گردوں نے رخائن میں جوکچھ کیایاجوکچھ کیاجارہاہے ،وہ قابل مذمت ہے ۔انہوں نے کہاکہ جس سفاکانہ اندازمیں مسلم مردوزن اورشیرخواربچوں کوموت کی نیندسلایاجاجارہے وہ پوری عالمی برادری اورانسانیت کیلئے لمحہ فکریہ ہوناچاہئے ۔اعجازخان کاکہناتھاکہ بودھ انتہاپسندانسانیت کاسرعام قتل کررہے ہیں اوران کوبرمی فوج کی مکمل پشت پناہی اوراشتراک حاصل ہے ،اسلئے بودھ انتہاپسندآشین وردؤکوعالمی دہشت گردقراردیاجائے۔ ایجیک کشمیرکے صدرنے مزیدکہاکہ روہنگیامسلمانوں کی حالت زارپراقوام عالم کی خاموشی قابل ملامت ہے کیونکہ عصرحاضرکے حکمران اگرخودکوجمہوراورانسانیت پسندکہتے ہیں تواُنھیں برمی حکومت پردباؤ ڈالکرمسلمانوں کاقتل عام بندکرانے میں اپنارول اداکرناچاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اب آن سانگ سوچی نوبل انعام کی مستحق نہیں ہے کیونکہ وہ اقتداراورطاقت ہونے کے باوجوداپنے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کے جان ومال اورعزت کوتحفظ دینے میں ناکام رہی ہیں ۔انہوں نے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل انتونیوگونترس سے مطالبہ کیاکہ آن سانگ سوچی سے نوبل انعام واپس لیاجائے ۔اعجازخان نے کہاکہ ظلم وجبرکے شکارروہنگیامسلمانوں کوانسانی بنیادوں پرپناہ دینابھارت اوربنگلہ دیش کی اخلاقی وانسانی ذمہ داری ہے ،اوردونوں ملکوں کواُسی طرح ان مجبوراورغریب الوطن مہاجرین کوپناہ دیناچاہئے جس طرح سے مغربی پاکستان کے لاکھوں رفیوجیوں کوجموں کے مختلف علاقوں میں دہائیوں سے پناہ گزینوں کے بطورپناہ دی گئی ہے ۔اعجازخان نے ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندرامودی سے رابطہ کرکے اُنھیں روہنگیامسلمانوں کوبھارت میں پناہ دینی کی اپیل کریں ۔ایجیک کشمیرکے صدرنے بنگلور میں خاتون صحافی گوری لنکیش کے سفاکانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ حق گوخاتون بھی انتہاپسندی کانشانہ بنی ہے ۔اس دوران شوپیان میں ہائراسکنڈری اسکول کے طلاب نے روہنگیامسلمانوں کیساتھ اظہاریکجہتی کے بطورمارچ کیا تاہم واپسی پرطلاب کاپولیس اورفورسزسے سامناہوا،جسکے نتیجے میں طرفین کے مابین ٹکراؤ کی صورتحال پیداہوئی ۔ ہائراسکنڈری اسکول شوپیان میں زیرتعلیم طلباء نے جمعرات کی صبح اسکول ٹائم شروع ہونے کے کچھ دیربعدروہنگیامسلمانوں کے قتل عام عام کیخلاف ایک جلوس نکالا۔جلوس میں شامل طلاب نے ڈگری کالج شوپیان تک مارچ کیا۔یہاں سے واپسی پران احتجاجی طلبہ کاپولیس وفورسزاہلکاروں سے سامناہوا۔سیکورٹی اہلکاروں کی کارروائی سے ناراض طلاب نے پتھراؤ شروع کردیا،جسکے جواب میں پولیس اہلکاروں نے ان مشتعل طلبہ کومنتشرکرنے کیلئے آنسوگیس کے کچھ گولے داغے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *