راجناتھ سنگھ کی کشمیرآمد ۔10ستمبرکو ہڑتال؛مزاحمتی قائدین کی کال

سرینگر؍۷،ستمبر ؍مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مشترکہ بیان میں بھارت اور اسکے ریاستی اتحادیوں کی جانب سے کشمیری مزاحمتی قیادت اور عوام کیخلاف جاری جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کے بل پر مزاحمتی قیادت کی سیاسی اور پر امن سرگرمیوں کو مسدود کردیا گیا ہے اور حریت پسند قیادت اور عوام کو پشت بہ دیوار کرنے کیلئے ہر غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے بروئے کار لائے جارہے ہیں اور حریت پسند قیادت کو دبانے کیلئے تشدد آمیز سیاستکاری سے کام لیا جارہا ہے ۔موصولہ بیان میں سید علی گیلانی ، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا کہ گزشتہ برس بھی ایک پر امن سیاسی تحریک کے دوران سینکڑوں افراد کو شہید ، ہزاروں کو زخمی، اور سینکڑوں کو بینائی سے محروم کردیا گیا اور کشمیر اور کشمیر سے باہر بھارت کی مختلف ریاستوں کے جیل خانے بشمول کورٹ بلوال، ادھمپور ، کٹھوعہ ، تہاڑ جیل دہلی ، سرینگر سینٹرل جیل ، بارہمولہ سب جیل، اسلام آباد، پلوامہ وغیرہ کے قید خانے، کشمیری سیاسی نظر بندوں سے بھرے پڑے ہیں جن میں مردوں، بچوں،اور یہاں تک کہ خواتین کو بھی بلا تمیز سن و سال مقید کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اصل حکمران بھارت کی وزارت داخلہ ہے اور انکی ایما پر ہی کشمیر کا سارا انتظام اور انصرام چلایا جارہا ہے ۔مزاحمتی قائدین نے کہا کہ حکومت ہندوستان ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری قوم کی تذلیل کررہی ہے اور اب کشمیری عوام اور یہاں کی مزاحمتی قیادت کو بدنام کرنے کیلئے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی NIA کو یہاں مسلط کیا گیا ہے اور اس کی آڑ میں اس تمام مہم جوئی کا مقصد یہاں کے حریت پسند عوام اور قیادت کو خوفزدہ کرنا ہے ۔سید علی گیلانی ، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے حکومت ہندوستان اور اسکی ریاستی اتحادیوں کے ظلم و جبر ،نا انصافیوں اور جبر و تشدد سے عبارت کارروائیوں کیخلاف 10 ستمبربروز اتوار بھارتی وزیر داخلہ کی کشمیر آمد کے موقعہ پر ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اس روز مکمل ہڑتال کرکے پوری دنیا پر واضح کریں کہ ان کی مبنی برحق جدوجہد کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبایا نہیں جاسکتا۔مزاحمتی قائدین نے کہا کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ کوئیLaw and order کا مسئلہ نہیں بلکہ یہاں کے عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے جس کو پوری عالمی برادری نے نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اقوام متحدہ نے اس ضمن میں باضابطہ کئی قراردادیں پاس کی ہیں جن میں یہاں کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کیلئے آزادانہ استصواب رائے کا حق دیا گیا ہے ۔ سید علی گیلانی ، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے بھارتی تحقیقاتی ایجنسیNIA کی جانب سے مزاحمتی رہنماؤں آغا سید حسن الموسوی الصفوی، غلام نبی سمجھی،شوکت بخشی،اور ضمیر ٹھاکر سمیت متعدد مزاحمتی کارکنوں اور تجارت پیشہ افراد کیخلاف مسلسل چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہNIAکی مہم جوئی کا مقصد دھونس اور دباؤ کے ذریعہ مبنی برحق جدوجہد سے انہیں دست کش کرانا ہے تاہم قائدین نے واضح کیا کہ اس قسم کے حربے یہاں کی حریت پسند قیادت اور عوام کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *