جہانگیرچوک میں گرینیڈدھماکہ

ایک درجن سے زیادہ راہگیرزخمی،2آٹورکھشاؤں کانقصان
بڈگام کارہنے والانوجوان زخموں کی تاب نہ لاکربنالقمہ اجل

سرینگر؍۷،ستمبر ؍جنگجوؤں نے سیول لائنز میں دستک دیتے ہوئے فورسز پر جہا نگیر چوک میں فلائی اؤر کے نزدیک ایک ہتھ گولہ پھینکا جو زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جسکے نتیجے میں ایک عام شہری ہلاک اور کئی خواتین سمیت 12 افراد زخمی ہوئے جبکہ گرینیڈ دھماکے میں2آٹو رکھشاؤں کو بھی نقصان پہنچا۔اس دوران پولیس وفورسز اہلکاروں نے پورے علاقوں کو گھیرے میں لیا اور حملہ آؤروں کی تلاش شروع کردی جبکہ پولیس وفورسز کے اعلیٰ افسران نے جائے موقع پر سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔جہا نگیر چوک فلائی اؤر کے نزدیک سہ پہر ساڑھے پانچ اور6بجے کے قریب اُس وقت افراتفری پھیل گئی جب یہاں جنگجوؤں نے سی آر پی ایف گاڑی کو نشانے بناتے ہوئے ایک ہتھ گولہ داغا ،جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ جنگجوؤں نے شہر سری نگر میں دستک دیتے ہوئے جہانگیر چوک میں فلائی اؤر اور کرائم برانچ ہیڈ کواٹر کے نزدیک ایک ہتھ گولہ پھینکا ،جو نشانے سے چوک سڑک کے بیچ وبیچ زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ اس خوفناک دھماکے میں آہنی ریزوں کی زد میں آکر 6عام شہری زخمی ہوئے جن میں کئی شدید زخمی ہوئے ۔زخمیوں کو فوری طور پر علاج ومعالجہ کیلئے صدر اسپتال منتقل کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جنگجوؤں نے سی آر پی ایف گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔اس دھماکے میں ایک عام شہری مقصود احمد شاہ ولد علی محمد شاہ ساکنہ اوم پورہ بڈگام زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا جبکہ اس دھماکے میں 5خواتین سمیت12دیگر افراد زخمی ہوئے ۔صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈ نٹ ڈاکٹر نذیر چودھری نے کے این ایس کو بتایا کہ 12زخمیوں کو اسپتال میں علاج ومعالجہ کیلئے داخل کیا گیا ،جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ایک شخص کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا ۔۔ادھر پولیس حکام نے گرینیڈ دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس گرینیڈ دھماکے میں ایک عام شہری ہلاک اور دیگرمتعدد افراد زخمی ہوئے ۔معلوم ہوا ہے کہ گرینیڈ دھماکے میں 2آٹو رکھشاؤں زیر نمبرات JK0AB/8985اورJK01B/6536کو بھی نقصان پہنچا ۔ادھر ایس ایس پی سرینگر کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں گرینیڈ پھینکنے والا بھی زخمی ہوا ،تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اُسے زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا یا نہیں ۔اس دوران جہانگیر چوک ،مگر مل باغ اور اسکے گرد ونواح علاقوں میں افراتفری پھیل گئی اور لوگ دھماکے کے فوراً بعد محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جبکہ کچھ دیر کیلئے ٹریفک کی نقل وحر کت بھی مسدود ہو کر رہ گئی ۔ادھر پولیس وفورسز اہلکاروں نے پورے علاقے کو اپنے محاصرے میں لیا جبکہ اعلیٰ سیکورٹی افسران نے جائے موقع پر سیکورٹی صورتحال کا جائزہ بھی لیا ۔شہر سرینگر کے مرکز میں طویل عرصے کے بعد جنگجوؤں نے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کی ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *