این آئی اے مہم کامقصد قربانیوں سے توجہ ہٹانا:گیلانی

سرینگر؍۷،ستمبر ؍سید علی گیلانی نے بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی NIAکی طرف سے حریت کانفرنس کے سیکریٹری جنرل غلام نبی سمجھی، صوبائی صدر مولانا سید آغا حسن، فریڈم پارٹی کے رُکن ضمیر احمد شیخ، لبریشن فرنٹ کے نائب صدر شوکت احمد بخشی، فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف اور کولگام کے جاوید احمد کے گھروں پر چھاپے یا گرفتار کرنے کی سامراجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ بھار ت ایک طرف ریاست جموں کشمیر کے عوام کی طرف سے اپنی جائز اور پُرامن تحریک حقِ خودارادیت کے ساتھ والہانہ لگاؤ اور اس کے لیے دی گئی مثالی قربانیوں سے توجہ ہٹانے اور دوسری طرف عوام کے جذبۂ حریت کو دبانے کے حوالے سے قتل وغارت اور ظلم وبربریت پر پردہ ڈالنے کے لیے NIAکو استعمال میں لارہا ہے۔موصولہ بیان میں چیرمین حریت(گ)سیدعلی گیلانی نے بھارت کو اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرنے کا صلاح دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود برطانوی سامراج کے زیرِ سایہ غلامانہ زندگی گزار چکا ہے، لہٰذا اسے جان لینا چاہیے کہ عوام کے جذبۂ حریت کو سامراجی ہتھکنڈوں سے تھوڑی دیر کے لیے متاثر کیا جاسکتا ہے، لیکن دنیا کے انقلابات کا دستور یہی رہا ہے کہ ہر تحریکِ مزاحمت کے سامنے جابر اور سامراجی قوتیں بالآخرناکام ونامراد ہوتی ہیں۔ حریت راہنما نے ریاست جموں کشمیر میں بھارت کی قابض فرقہ پرست انتظامیہ کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی شدید ترین مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے باعزت شہریوں کے مال وجان اور عزت شدید خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ قابض انتظامیہ ریاست کے اندر NIAکے ہاتھوں خوف وہراس اور قبرستان کی سی خاموشی برپا کرنے کا تہیہ کرچکی ہے۔ بزرگ راہنما نے ریاست کی موجودہ PDPکی حکومت کو RSSاور BJPکی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ حکومت جمہوریت کو خیالات کی جنگ قرار دینے کی ڈفلی بجانے میں شرم محسوس نہیں کرتی تھی جب کہ ریاست میں پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر ایمرجنسی جیسی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ حیدرپورہ میں حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کے اجلاس پر پابندی عائد کرنے کو ’’اظہارِ آزادئ رائے‘‘ کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے بزرگ راہنما نے کہا کہ تحریک حریت کے دفتر تک جانے والی سڑک کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا، پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت کو پہرے پر بٹھایا گیا، مجلس شوریٰ کے ارکان کو روکا گیا، یہاں تک کہ دفتری ملازمین کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پولیس انتظامیہ کی اس غیر جمہوری کارروائی کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی گئی۔سیدعلی گیلانی نے دیور لولاب کے منظور احمدکی فوج کی تحویل میں لاپتہ کئے جانے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوانوں کو زیرِ حراست گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے بھارت کی سینہ زوری کا خاموشی کے ساتھ نظارہ کررہے ہیں۔ بزرگ راہنما نے بنگلور کی خاتون صحافی کے قتل پر بھی اپنے گہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے ناطے ہمیں معصوم لوگوں کو قتل کرنے کی مجرمانہ کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے اور ان پر روک لگانے کی فکر ہونی چاہیے۔بزرگ راہنما نے برما کے مسلمانوں کے خلاف قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالم اسلام کی تنظیم OICممالک سے وابستہ ممبر ممالک اور اقوامِ متحدہ سے رونگہیائی مسلمانوں کے خلاف نسل کُشی کی مہم پر روک لگانے کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کی تلقین کرتے ہوئے نماز جمعہ کے بعد برمی مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی کے طور پر پُرامن صدائے احتجاج بلند کرنے کی اپیل کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *