جہانگیرچوک میں گرینیڈدھماکہ

ایک درجن سے زیادہ راہگیرزخمی،2آٹورکھشاؤں کانقصان
بڈگام کارہنے والانوجوان زخموں کی تاب نہ لاکربنالقمہ اجل

سرینگر؍۷،ستمبر ؍جنگجوؤں نے سیول لائنز میں دستک دیتے ہوئے فورسز پر جہا نگیر چوک میں فلائی اؤر کے نزدیک ایک ہتھ گولہ پھینکا جو زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جسکے نتیجے میں ایک عام شہری ہلاک اور کئی خواتین سمیت 12 افراد زخمی ہوئے جبکہ گرینیڈ دھماکے میں2آٹو رکھشاؤں کو بھی نقصان پہنچا۔اس دوران پولیس وفورسز اہلکاروں نے پورے علاقوں کو گھیرے میں لیا اور حملہ آؤروں کی تلاش شروع کردی جبکہ پولیس وفورسز کے اعلیٰ افسران نے جائے موقع پر سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔جہا نگیر چوک فلائی اؤر کے نزدیک سہ پہر ساڑھے پانچ اور6بجے کے قریب اُس وقت افراتفری پھیل گئی جب یہاں جنگجوؤں نے سی آر پی ایف گاڑی کو نشانے بناتے ہوئے ایک ہتھ گولہ داغا ،جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ جنگجوؤں نے شہر سری نگر میں دستک دیتے ہوئے جہانگیر چوک میں فلائی اؤر اور کرائم برانچ ہیڈ کواٹر کے نزدیک ایک ہتھ گولہ پھینکا ،جو نشانے سے چوک سڑک کے بیچ وبیچ زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ اس خوفناک دھماکے میں آہنی ریزوں کی زد میں آکر 6عام شہری زخمی ہوئے جن میں کئی شدید زخمی ہوئے ۔زخمیوں کو فوری طور پر علاج ومعالجہ کیلئے صدر اسپتال منتقل کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جنگجوؤں نے سی آر پی ایف گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔اس دھماکے میں ایک عام شہری مقصود احمد شاہ ولد علی محمد شاہ ساکنہ اوم پورہ بڈگام زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا جبکہ اس دھماکے میں 5خواتین سمیت12دیگر افراد زخمی ہوئے ۔صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈ نٹ ڈاکٹر نذیر چودھری نے کے این ایس کو بتایا کہ 12زخمیوں کو اسپتال میں علاج ومعالجہ کیلئے داخل کیا گیا ،جن میں کئی خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ایک شخص کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا ۔۔ادھر پولیس حکام نے گرینیڈ دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس گرینیڈ دھماکے میں ایک عام شہری ہلاک اور دیگرمتعدد افراد زخمی ہوئے ۔معلوم ہوا ہے کہ گرینیڈ دھماکے میں 2آٹو رکھشاؤں زیر نمبرات JK0AB/8985اورJK01B/6536کو بھی نقصان پہنچا ۔ادھر ایس ایس پی سرینگر کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں گرینیڈ پھینکنے والا بھی زخمی ہوا ،تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اُسے زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا یا نہیں ۔اس دوران جہانگیر چوک ،مگر مل باغ اور اسکے گرد ونواح علاقوں میں افراتفری پھیل گئی اور لوگ دھماکے کے فوراً بعد محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جبکہ کچھ دیر کیلئے ٹریفک کی نقل وحر کت بھی مسدود ہو کر رہ گئی ۔ادھر پولیس وفورسز اہلکاروں نے پورے علاقے کو اپنے محاصرے میں لیا جبکہ اعلیٰ سیکورٹی افسران نے جائے موقع پر سیکورٹی صورتحال کا جائزہ بھی لیا ۔شہر سرینگر کے مرکز میں طویل عرصے کے بعد جنگجوؤں نے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کی ۔ 

منی لانڈرنگ معاملہ:NIAکی برق رفتارتحقیقات

ٹنل کے آرپارمتعددمقامات پرچھاپہ ماری
مزاحمتی لیڈروں وکارکنوں ،حمایتیوں اورکاروباری افرادکے گھروں اوردفاترمیں طویل تلاشی کارروائی

سرینگر؍۷؍ستمبر ؍منی لانڈرنگ معاملے کی چھان بین میں تیزی لاتے ہوئے قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے گزشتہ24گھنٹوں کے دوران کشمیر،نئی دہلی اورگڑگاؤں ہریانہ میں لگ بھگ40مقامات پرچھاپے ڈالکرکروڑوں روپے نقدکے علاوہ لین دین اورمنقولہ وغیرمنقولہ جائیدادسے متعلق اہم ریکارڈودستاویزات،لیپ ٹاپ ، موبائیل فون اور دیگر آلات ضبط کئے ۔جمعرات کواین آئی اے کی ٹیموں نے سری نگر،بجبہاڑہ اورکپوارہ میں کئی سینئرمزاحمتی لیڈروں وکارکنوں سمیت10مشتبہ افرادکے گھروں اورکاروباری مراکزکی باریک بینی سے تلاشی لی ،اورمتعلقین سے کروڑوں روپے لین دین کے بارے میں پوچھ تاچھ کی گئی ۔خیال رہے این آئی اے کی ٹیموں نے بدھ کے روزکشمیراورکشمیرسے باہرلگ بھگ27مقامات پرکئی تاجروں کے گھروں وتجارتی مراکزمیں چھاپہ مارکارروائیوں کے دوران 2کروڑروپے سے زیادہ کی رقم ،اہم ریکارڈودستاویزات اورلیپ ٹاپ وغیرہ کی ضبطی عمل میں لائی تھی ۔غورطلب ہے کہ منی لانڈرنگ سے متعلق کیس درج کرنے کے بعداین آئی اے نے ماہ جولائی کے آخری ہفتے میں نصف درجن سے زیادہ مزاحمتی لیڈروں وذمہ داروں کوگرفتارکرلیاجبکہ اسکے بعداین آئی اے نے جموں میں سکھ فرقہ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل،معروف کشمیری تاجرظہوروٹالی اورمحمداسلم وانی کی گرفتاری بھی عمل میں لائی ۔معلوم ہواکہ قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے کشمیرمیں علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کیلئے مبینہ طوربیرون ممالک سے کی جارہی فنڈنگ سے جڑے کیس کی تحقیقات میں تیزی لاتے ہوئے مسلسل دوسرے روزبھی وادی میں کئی مقامات پرچھاپہ ڈالکرطویل تلاشی کارروائیاں عمل میں لائیں ۔معلوم ہواکہ این آئی اے کی ٹیم نے پولیس اورسی آرپی ایف اہلکاروں کی نگرانی میں جمعرات کوعلی الصبح جنوبی ضلع اسلام آبادکے بجبہاڑہ قصبہ میں حریت کانفرنس(گ) کے جنرل سیکرٹری حاجی غلام نبی سمجھی کے رہائشی مکان میں چھاپہ ڈالکریہاں طویل تلاشی کارروائی عمل میں لانے کیساتھ ساتھ پوچھ تاچھ بھی کی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ جمعرات کوصبح کے وقت اچانک پولیس اور سی آرپی ایف اہلکاروں نے حاجی غلام نبی سمجھی کی رہائش گاہ کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لیا،اوراس دوران این آئی اے کی ایک ٹیم حریت لیڈرکے گھرمیں داخل ہوئی ۔عینی شاہدین کے مطابق یہاں تلاشی کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی اوراس دوران فورسزکامحاصرہ بھی جاری رہاجبکہ مکان میں موجودکسی بھی فردخانہ کوباہرجانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکاکہ آیاحاجی غلام نبی سمجھی تلاشی کارروائی کے وقت گھرمیں موجودتھے کہ نہیں ،اوریہ بھی معلوم نہیں ہوسکاکہ این آئی اے کی ٹیم نے حریت(گ) سیکرٹری جنرل کی رہائش گاہ سے کسی چیزکی ضبطی عمل میں لائی کہ نہیں ۔اس دوران این آئی اے کی ایک اورٹیم نے پولیس وفورسزاہلکاروں کی موجودگی میں حریت (گ) کے ایک اورسینئرلیڈرومعروف شیعہ رہنماآغاسیدحسن کے رہائشی مکان واقع بڈگام میں بھی چھاپہ ڈالا۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ جمعرات کوصبح کے وقت اچانک پولیس اور سی آرپی ایف اہلکاروں نے حاجی غلام نبی سمجھی کی رہائش گاہ کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لیا،اوراس دوران این آئی اے کی ایک ٹیم حریت لیڈرکے گھرمیں داخل ہوئی ۔عینی شاہدین کے مطابق یہاں تلاشی کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی اوراس دوران فورسزکامحاصرہ بھی جاری رہاجبکہ مکان میں موجودکسی بھی فردخانہ کوباہرجانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکاکہ آیاآغاسیدحسن تلاشی کارروائی کے وقت گھرمیں موجودتھے کہ نہیں ،اوریہ بھی معلوم نہیں ہوسکاکہ این آئی اے کی ٹیم نے حریت(گ) کے سینئرلیڈر کی رہائش گاہ سے کسی چیزکی ضبطی عمل میں لائی کہ نہیں ۔معلوم ہواکہ این آئی اے کی ایک ٹیم نے محبوس مزاحمتی لیڈرشبیراحمدشاہ کی پارٹی فریڈم پارٹی کے ایک کارکن ضمیراحمدکے مکان واقع گلشن نگرنوگام سرینگرمیں بھی چھاپہ ڈالا،اوریہاں بھی کافی وقت تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی ۔تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکاکہ آیاضمیراحمد تلاشی کارروائی کے وقت گھرمیں موجودتھے کہ نہیں ،اوریہ بھی معلوم نہیں ہوسکاکہ این آئی اے کی ٹیم نے فریڈم پارٹی کے کارکن کی رہائش گاہ سے کسی چیزکی ضبطی عمل میں لائی کہ نہیں ۔ادھرقومی تفتیشی ایجنسی کی ایک ٹیم نے پولیس وفورسزاہلکاروں کے اشتراک سے بمنہ میں معروف مزاحمتی لیڈرشکیل احمدبخشی اورلبریشن فرنٹ کے سینئرلیڈرشوکت احمدبخشی کے رہائشی مکان میں بھی جمعرات کے روزاچانک چھاپہ ڈالا۔عینی شاہدین کے مطابق یہاں تلاشی کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی اوراس دوران فورسزکامحاصرہ بھی جاری رہاجبکہ مکان میں موجودکسی بھی فردخانہ کوباہرجانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکاکہ آیابخشی برادران تلاشی کارروائی کے وقت گھرمیں موجودتھے کہ نہیں ،اوریہ بھی معلوم نہیں ہوسکاکہ این آئی اے کی ٹیم نے تلاشی کارروائی کے دوان کسی چیزکی ضبطی عمل میں لائی کہ نہیں ۔دریں اثناء این آئی اے کی ایک اورٹیم نے سرحدی ضلع کپوارہ کے کرالہ پورہ علاقہ میں بھی ایک گھرمیں تلاشی کارروائی عمل میں لائی جبکہ اسی نوعیت کی کارروائی حیدرپورہ سرینگرمیں بھی عمل میں لائی گئی اوریہاں ایک چارٹرڈاکاؤنٹنٹ کے دفترواقع الحیدرکمپلیکس میں چھاپہ ڈالکرتلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی ۔حیدرپورہ اورکرالہ پورہ کپوارہ میں طویل تلاشی کارروائی کے دوران منی لانڈرنگ سے متعلق چھان بین کی گئی ۔ادھرمعلوم ہواکہ این آئی اے کی ٹیموں نے جمعرات کووادی میں لگ بھگ دس مقامات پرچھاپے ڈالکرتلاشی کارروائیاں عمل میں لائیں۔خیال رہے این آئی اے کی ٹیموں نے بدھ کے روزکشمیراورکشمیرسے باہرلگ بھگ27مقامات پرکئی تاجروں کے گھروں وتجارتی مراکزمیں چھاپہ مارکارروائیوں کے دوران 2کروڑروپے سے زیادہ کی رقم ،اہم ریکارڈودستاویزات،لیپ ٹاپ موبائیل فون اور دیگر آلات وغیرہ کی ضبطی عمل میں لائی تھی ۔غورطلب ہے کہ منی لانڈرنگ سے متعلق کیس درج کرنے کے بعداین آئی اے نے ماہ جولائی کے آخری ہفتے میں نصف درجن سے زیادہ مزاحمتی لیڈروں وذمہ داروں کوگرفتارکرلیاجبکہ اسکے بعداین آئی اے نے جموں میں سکھ فرقہ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل،معروف کشمیری تاجرظہوروٹالی اورمحمداسلم وانی کی گرفتاری بھی عمل میں لائی ۔

روہنگیامسلمانوں کیساتھ اظہاریکجہتی

ملازمین اورطلاب نے کیاکشت وخون کیخلاف صدائے احتجاج بلند

سرینگر؍۷،ستمبر ؍روہنگیامسلمانوں کے قتل عام کیخلاف اہل وادی میں سخت ناراضگی کے بیچ جمعرات کوسرکاری ملازمین اورطلاب نے سرینگر،شوپیان اوردیگرکچھ مقامات پر صدائے احتجاج بلندکیا۔ایجیک کشمیرکے جھنڈے تلے سرکاری ملازمین نے سیاہ جھنڈیاں اوربینراُٹھائے پریس کالونی سے گھنٹہ گھرتک پُرامن مارچ کیا۔اس موقعہ پرایجیک کشمیرکے صدراعجازخان نے کہاکہ بے بس روہنگیامسلمانوں کوتہیہ تیغ کرناعالم انسانیت کیلئے چیلنج ہے ۔انہوں نے بودھ انتہاپسندآشین وردؤکوعالمی دہشت گردقراردینے کامطالبہ کرتے ہوئے بنگلورمیں خاتون صحافی گوری لنکیش کے سفاکانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔اُدھرشوپیان میں ہائراسکنڈری اسکول کے طلاب نے روہنگیامسلمانوں کیساتھ اظہاریکجہتی کے بطورمارچ کیا تاہم واپسی پرطلاب کاپولیس اورفورسزسے سامناہوا،جسکے نتیجے میں طرفین کے مابین ٹکراؤ کی صورتحال پیداہوئی ۔میانماریعنی برماکے مسلم اکثریتی علاقہ رخائن میں آبادروہنگیامسلمانوں کے قتل عام اوراُنکی بستیوں کونذرآتش کئے جانے کیخلاف اُمت مسلمہ بشمول اہل وادی میں پائی جانے والی سخت ناراضگی کے بیچ کشمیرمیں برمی فوج اوربودھ انتہاپسندوں کیخلاف احتجاجی مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے ،جمعرات کوسرینگراورشوپیاں سمیت کئی مقامات پرجلوس برآمدہوئے ۔سرکاری ملازموں کی مختلف انجمنوں کے ایک مشترکہ فورم ایمپلائزجوائنٹ ایکشن کمیٹی کشمیر کے جھنڈے تلے درجنوں ملازمین بازؤں پرسیاہ پٹیاں باندھے اورہاتھوں میں سیاہ بینروجھنڈیاں لئے سرینگرکی پریس کالونی میں جمع ہوئے ۔یہاں سے ایجیک کشمیرکے صدراعجازاحمدخان اوردیگرملازم لیڈران بشمول اشتیاق احمدبیگ،میربشیراحمد،غلام محمدنائیکو،محمداشرف،شیخ ماجد،عبدالقیوم بیگ اورتسلیمہ سبحان کی قیادت میں ملازمین نے روہنگیامسلمانوں کی بستیوں کوتہیہ تیغ کئے جانے ،بلالحاظ عمروجنس ان کے قتل عام اوراُنھیں وطن سے بے وطن کئے جانے کیخلاف پُرامن مارچ کیا۔برمامیں دہشت گردی بندکرؤ،روہنگیامسلمانوں کوتحفظ دؤجیسے نعرے بلندکرتے ہوئے سرکاری ملازمین نے گھنٹہ گھرتک مارچ کیا۔یہاں جمع ملازمین اوردیگرلوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ایجیک کشمیرکے صدراعجازاحمدخان نے کہاکہ برمی فوج اوربودھ دہشت گردوں نے رخائن میں جوکچھ کیایاجوکچھ کیاجارہاہے ،وہ قابل مذمت ہے ۔انہوں نے کہاکہ جس سفاکانہ اندازمیں مسلم مردوزن اورشیرخواربچوں کوموت کی نیندسلایاجاجارہے وہ پوری عالمی برادری اورانسانیت کیلئے لمحہ فکریہ ہوناچاہئے ۔اعجازخان کاکہناتھاکہ بودھ انتہاپسندانسانیت کاسرعام قتل کررہے ہیں اوران کوبرمی فوج کی مکمل پشت پناہی اوراشتراک حاصل ہے ،اسلئے بودھ انتہاپسندآشین وردؤکوعالمی دہشت گردقراردیاجائے۔ ایجیک کشمیرکے صدرنے مزیدکہاکہ روہنگیامسلمانوں کی حالت زارپراقوام عالم کی خاموشی قابل ملامت ہے کیونکہ عصرحاضرکے حکمران اگرخودکوجمہوراورانسانیت پسندکہتے ہیں تواُنھیں برمی حکومت پردباؤ ڈالکرمسلمانوں کاقتل عام بندکرانے میں اپنارول اداکرناچاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اب آن سانگ سوچی نوبل انعام کی مستحق نہیں ہے کیونکہ وہ اقتداراورطاقت ہونے کے باوجوداپنے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کے جان ومال اورعزت کوتحفظ دینے میں ناکام رہی ہیں ۔انہوں نے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل انتونیوگونترس سے مطالبہ کیاکہ آن سانگ سوچی سے نوبل انعام واپس لیاجائے ۔اعجازخان نے کہاکہ ظلم وجبرکے شکارروہنگیامسلمانوں کوانسانی بنیادوں پرپناہ دینابھارت اوربنگلہ دیش کی اخلاقی وانسانی ذمہ داری ہے ،اوردونوں ملکوں کواُسی طرح ان مجبوراورغریب الوطن مہاجرین کوپناہ دیناچاہئے جس طرح سے مغربی پاکستان کے لاکھوں رفیوجیوں کوجموں کے مختلف علاقوں میں دہائیوں سے پناہ گزینوں کے بطورپناہ دی گئی ہے ۔اعجازخان نے ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندرامودی سے رابطہ کرکے اُنھیں روہنگیامسلمانوں کوبھارت میں پناہ دینی کی اپیل کریں ۔ایجیک کشمیرکے صدرنے بنگلور میں خاتون صحافی گوری لنکیش کے سفاکانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ حق گوخاتون بھی انتہاپسندی کانشانہ بنی ہے ۔اس دوران شوپیان میں ہائراسکنڈری اسکول کے طلاب نے روہنگیامسلمانوں کیساتھ اظہاریکجہتی کے بطورمارچ کیا تاہم واپسی پرطلاب کاپولیس اورفورسزسے سامناہوا،جسکے نتیجے میں طرفین کے مابین ٹکراؤ کی صورتحال پیداہوئی ۔ ہائراسکنڈری اسکول شوپیان میں زیرتعلیم طلباء نے جمعرات کی صبح اسکول ٹائم شروع ہونے کے کچھ دیربعدروہنگیامسلمانوں کے قتل عام عام کیخلاف ایک جلوس نکالا۔جلوس میں شامل طلاب نے ڈگری کالج شوپیان تک مارچ کیا۔یہاں سے واپسی پران احتجاجی طلبہ کاپولیس وفورسزاہلکاروں سے سامناہوا۔سیکورٹی اہلکاروں کی کارروائی سے ناراض طلاب نے پتھراؤ شروع کردیا،جسکے جواب میں پولیس اہلکاروں نے ان مشتعل طلبہ کومنتشرکرنے کیلئے آنسوگیس کے کچھ گولے داغے۔

این آئی اے مہم کامقصد قربانیوں سے توجہ ہٹانا:گیلانی

سرینگر؍۷،ستمبر ؍سید علی گیلانی نے بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی NIAکی طرف سے حریت کانفرنس کے سیکریٹری جنرل غلام نبی سمجھی، صوبائی صدر مولانا سید آغا حسن، فریڈم پارٹی کے رُکن ضمیر احمد شیخ، لبریشن فرنٹ کے نائب صدر شوکت احمد بخشی، فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف اور کولگام کے جاوید احمد کے گھروں پر چھاپے یا گرفتار کرنے کی سامراجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ بھار ت ایک طرف ریاست جموں کشمیر کے عوام کی طرف سے اپنی جائز اور پُرامن تحریک حقِ خودارادیت کے ساتھ والہانہ لگاؤ اور اس کے لیے دی گئی مثالی قربانیوں سے توجہ ہٹانے اور دوسری طرف عوام کے جذبۂ حریت کو دبانے کے حوالے سے قتل وغارت اور ظلم وبربریت پر پردہ ڈالنے کے لیے NIAکو استعمال میں لارہا ہے۔موصولہ بیان میں چیرمین حریت(گ)سیدعلی گیلانی نے بھارت کو اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرنے کا صلاح دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود برطانوی سامراج کے زیرِ سایہ غلامانہ زندگی گزار چکا ہے، لہٰذا اسے جان لینا چاہیے کہ عوام کے جذبۂ حریت کو سامراجی ہتھکنڈوں سے تھوڑی دیر کے لیے متاثر کیا جاسکتا ہے، لیکن دنیا کے انقلابات کا دستور یہی رہا ہے کہ ہر تحریکِ مزاحمت کے سامنے جابر اور سامراجی قوتیں بالآخرناکام ونامراد ہوتی ہیں۔ حریت راہنما نے ریاست جموں کشمیر میں بھارت کی قابض فرقہ پرست انتظامیہ کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی شدید ترین مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے باعزت شہریوں کے مال وجان اور عزت شدید خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ قابض انتظامیہ ریاست کے اندر NIAکے ہاتھوں خوف وہراس اور قبرستان کی سی خاموشی برپا کرنے کا تہیہ کرچکی ہے۔ بزرگ راہنما نے ریاست کی موجودہ PDPکی حکومت کو RSSاور BJPکی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ حکومت جمہوریت کو خیالات کی جنگ قرار دینے کی ڈفلی بجانے میں شرم محسوس نہیں کرتی تھی جب کہ ریاست میں پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر ایمرجنسی جیسی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ حیدرپورہ میں حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کے اجلاس پر پابندی عائد کرنے کو ’’اظہارِ آزادئ رائے‘‘ کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے بزرگ راہنما نے کہا کہ تحریک حریت کے دفتر تک جانے والی سڑک کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا، پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت کو پہرے پر بٹھایا گیا، مجلس شوریٰ کے ارکان کو روکا گیا، یہاں تک کہ دفتری ملازمین کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پولیس انتظامیہ کی اس غیر جمہوری کارروائی کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی گئی۔سیدعلی گیلانی نے دیور لولاب کے منظور احمدکی فوج کی تحویل میں لاپتہ کئے جانے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوانوں کو زیرِ حراست گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے بھارت کی سینہ زوری کا خاموشی کے ساتھ نظارہ کررہے ہیں۔ بزرگ راہنما نے بنگلور کی خاتون صحافی کے قتل پر بھی اپنے گہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے ناطے ہمیں معصوم لوگوں کو قتل کرنے کی مجرمانہ کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے اور ان پر روک لگانے کی فکر ہونی چاہیے۔بزرگ راہنما نے برما کے مسلمانوں کے خلاف قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالم اسلام کی تنظیم OICممالک سے وابستہ ممبر ممالک اور اقوامِ متحدہ سے رونگہیائی مسلمانوں کے خلاف نسل کُشی کی مہم پر روک لگانے کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کی تلقین کرتے ہوئے نماز جمعہ کے بعد برمی مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی کے طور پر پُرامن صدائے احتجاج بلند کرنے کی اپیل کی گئی۔

پاکستان اور چین سے دوطرفہ جنگ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا:جنرل راوت

۷،ستمبر ؍آرمی چیف جنرل بپن راوت نے ہند پاک اختلافات کو ’نا قابلِ مفاہمت ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین سے دوطرفہ جنگ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے اس افسانے کو بھی رد کردیا کہ جمہوریت پسند یا جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک ایک دوسرے سے جنگ نہیں کرتے۔ نئی دہلی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انڈین آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا کہ فوج کو دو محاذوں پر جنگ کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔انگریزی رسالہ ’انڈیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق جنرل بِپن روات کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین سے دوطرفہ جنگ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔جنرل روات نے چین کے ساتھ مستقبل میں ٹکراؤ کے اندیشہ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور پاکستان بھی اس موقع پر فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس لئے ہندستان کو ایک ساتھ دو محاذوں پر اپنا دم خم دکھانے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔انہوں نے اس افسانے کو بھی رد کردیا کہ ’جمہوریت پسند یا جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک ایک دوسرے سے جنگ نہیں کرتے‘۔ انہوں نے کہا’ ہندستان مغربی اور شمالی سرحد پر دو مخالفین سے گھرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قابل یقین مزاحمتی صلاحیت جنگ کے خطرے کو ختم نہیں کرتی۔ یہ بات درست ہے کہ جوہری اسلحہ مزاحم کا کام کرتے ہیں اور نیوکلیائی ہتھیاروں کی صلاحیت رکھنے والے ممالک کے مابین جنگ نہیں ہوتی۔ لیکن یہ کہنا کہ یہ جنگ ٹال سکتے ہیں، یہ ممالک کو لڑنے نہیں دیں گے، یہاں کیلئے یہ کہنا درست نہیں بھی ہوسکتا ہے۔‘ جنرل بپن روات نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوسکتے کیونکہ پاکستان نے بھارت کے خلاف درپردہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ انہوں نے کہا’(پاکستان)اُس کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش نہیں دکھائی دیتی کیوں کہ وہاں کی فوج، حکومتی نظام اور لوگوں کے من میں یہ بھر دیا گیا ہے کہ ہندستان اس کا دشمن ہے اور وہ اس ملک کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے، جنگ کی گنجائش ہمیشہ بنی رہتی ہے۔‘انہوں نے مستقبل میں بھارتی و چینی فوجی دستوں کے آمنے سامنے کی صورت میں ملک کی فوجی حکمت عملی سے متعلق بھی مختصر بات کی۔ آرمی چیف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال کی تکرار جیسے کہ ڈوکلام میں بھارتی اور چینی افواج کے درمیان پیش آنے والا حالیہ تنازع جیسی صورتحال مستقبل میں بھی پیش آسکتی ہے۔جنرل بپن روات نے الزام لگایا کہ چین خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور بھارت سے ڈوکلام کا علاقہ زبردستی حاصل کرنا چاہتا ہے، اس لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ’اگر بھارتی افواج شمالی سرحد پر چین کے سامنے کھڑی رہی تو اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ پاکستان صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا، اس لیے ہمیں شمالی اور مغربی بارڈرز پر کشیدگی کیلئے تیار رہنما چاہیے۔‘انہوں نے کہا کہ ’فوجیں تنہا جنگ نہیں لڑتیں بلکہ پوری قوم جنگ لڑتی ہے اور ہمیں اس کے مطابق خود کو تیار کرنا چاہیے۔‘

راجناتھ سنگھ کی کشمیرآمد ۔10ستمبرکو ہڑتال؛مزاحمتی قائدین کی کال

سرینگر؍۷،ستمبر ؍مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مشترکہ بیان میں بھارت اور اسکے ریاستی اتحادیوں کی جانب سے کشمیری مزاحمتی قیادت اور عوام کیخلاف جاری جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کے بل پر مزاحمتی قیادت کی سیاسی اور پر امن سرگرمیوں کو مسدود کردیا گیا ہے اور حریت پسند قیادت اور عوام کو پشت بہ دیوار کرنے کیلئے ہر غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے بروئے کار لائے جارہے ہیں اور حریت پسند قیادت کو دبانے کیلئے تشدد آمیز سیاستکاری سے کام لیا جارہا ہے ۔موصولہ بیان میں سید علی گیلانی ، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا کہ گزشتہ برس بھی ایک پر امن سیاسی تحریک کے دوران سینکڑوں افراد کو شہید ، ہزاروں کو زخمی، اور سینکڑوں کو بینائی سے محروم کردیا گیا اور کشمیر اور کشمیر سے باہر بھارت کی مختلف ریاستوں کے جیل خانے بشمول کورٹ بلوال، ادھمپور ، کٹھوعہ ، تہاڑ جیل دہلی ، سرینگر سینٹرل جیل ، بارہمولہ سب جیل، اسلام آباد، پلوامہ وغیرہ کے قید خانے، کشمیری سیاسی نظر بندوں سے بھرے پڑے ہیں جن میں مردوں، بچوں،اور یہاں تک کہ خواتین کو بھی بلا تمیز سن و سال مقید کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اصل حکمران بھارت کی وزارت داخلہ ہے اور انکی ایما پر ہی کشمیر کا سارا انتظام اور انصرام چلایا جارہا ہے ۔مزاحمتی قائدین نے کہا کہ حکومت ہندوستان ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری قوم کی تذلیل کررہی ہے اور اب کشمیری عوام اور یہاں کی مزاحمتی قیادت کو بدنام کرنے کیلئے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی NIA کو یہاں مسلط کیا گیا ہے اور اس کی آڑ میں اس تمام مہم جوئی کا مقصد یہاں کے حریت پسند عوام اور قیادت کو خوفزدہ کرنا ہے ۔سید علی گیلانی ، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے حکومت ہندوستان اور اسکی ریاستی اتحادیوں کے ظلم و جبر ،نا انصافیوں اور جبر و تشدد سے عبارت کارروائیوں کیخلاف 10 ستمبربروز اتوار بھارتی وزیر داخلہ کی کشمیر آمد کے موقعہ پر ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اس روز مکمل ہڑتال کرکے پوری دنیا پر واضح کریں کہ ان کی مبنی برحق جدوجہد کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبایا نہیں جاسکتا۔مزاحمتی قائدین نے کہا کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ کوئیLaw and order کا مسئلہ نہیں بلکہ یہاں کے عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے جس کو پوری عالمی برادری نے نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اقوام متحدہ نے اس ضمن میں باضابطہ کئی قراردادیں پاس کی ہیں جن میں یہاں کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کیلئے آزادانہ استصواب رائے کا حق دیا گیا ہے ۔ سید علی گیلانی ، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے بھارتی تحقیقاتی ایجنسیNIA کی جانب سے مزاحمتی رہنماؤں آغا سید حسن الموسوی الصفوی، غلام نبی سمجھی،شوکت بخشی،اور ضمیر ٹھاکر سمیت متعدد مزاحمتی کارکنوں اور تجارت پیشہ افراد کیخلاف مسلسل چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہNIAکی مہم جوئی کا مقصد دھونس اور دباؤ کے ذریعہ مبنی برحق جدوجہد سے انہیں دست کش کرانا ہے تاہم قائدین نے واضح کیا کہ اس قسم کے حربے یہاں کی حریت پسند قیادت اور عوام کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔